07-Apr-2022 تیرا میرا تماشا ہوگا
غزل
تیرا میرا تماشا ہوگا
گام ہر گام چرچا ہوگا
بہت شہرت ملے گی ہم کو
نام تیرا بھی رسوا ہوگا
یوں اچانک بچھڑنا تیرا
تم نے پہلے سے سوچا ہوگا
خوش رہا تُو ہم سے بچھڑ کر
ہم تو سمجھے تھے رویا ہوگا
ہم فقیروں سے کر کہ دغا
عمر بھر تُو بھی تنہا ہوگا
نیند برباد کر کے میری
چین سے تُو نا سویا ہوگا
سجاد علی سجاد